قاتل فضا: برکلے ارتھ نے چین میں فضائی آلودگی پر تحقیق شائع کردی

قاتل فضا: برکلے ارتھ نے چین میں فضائی آلودگی پر تحقیق شائع کردی

 

برکلے، کیلیفورنیا، 13 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– برکلے ارتھ نے آج ایک مقالہ شائع کیا ہے جو ظاہر کررہا ہے کہ فضائی آلودگی چین میں روزانہ اوسطاً 4000 افراد کو مار رہی ہے، جو تمام چین کی اموات کا 17 فیصد ہے۔ 38 فیصد آبادی کے لیے سانس لینے کی عام ہوا امریکی معیارات کے مطابق “غیر صحت بخش” ہے۔ غیر معمولی تفصیل کے ساتھ چین بھر میں آلودگی کے ذرائع کی نچلی سطح کی پیمائش سے براہ راست نقشہ کاری کی گئی ہے۔

تصویر – http://photos.prnewswire.com/prnh/20150812/257983-INFO

سب سے نقصان دہ آلودگی پی ایم 2.5 ہے، 2.5 مائیکرون یا اس سے چھوٹے دقیق مادے۔ یہ پھیپھڑوں میں اندر تک نفوذ کرتے ہیں اور دل کے عارضوں، دوروں، پھیپھڑوں کے سرطان اور دمے کا سبب بنتے ہیں۔ مقالے کے شریک مصنف رابرٹ روہڈے کہتے ہیں کہ “بیجنگ صرف درمیانے درجے کے پی ایم 2.5 کا حامل ہے؛ شہر کو زیادہ تر آلودگی دور قائم صنعتی علاقوں، بالخصوص شی جیاچوانگ سے ملتی ہے، جو 200 میل جنوب مغرب میں واقع ہے۔” کیونکہ ذرائع مقامی نہیں ہیں، اس لیے 2022ء کے اولمپکس کے لیے آلودگی کو کم کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

مقالہ فیصلہ ساز جریدے پلوس ون میں ظاہر ہوا ہے۔ برکلے ارتھ نے 4 ماہ کے عرصے میں 1500 زمینی مقامات کی گھنٹہ وار پیمائش کا جائزہ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ایم2.5 کے ذرائع سلفر کا اشارہ کرتے ہیں جو زیادہ تر کوئلے کی آلودگی سے آتے ہیں۔ دنیا بھر میں فضائی آلودگی ہر سال تین ملین سے زیادہ افراد کو مارتی ہے – جو ایڈز، ملیریا، ذیابیطس اور تپ دق سے زیادہ ہے۔

برکلے ارتھ کے سائنٹیفک ڈائریکٹر اور مقالے کے شریک مصنف رچرڈ ملر کہتے ہیں کہ “فضائی آلودگی آج کی دنیا کا سب سے بڑا ماحولیاتی سانحہ ہے، جب میں آخری بار بیجنگ میں تھا تو آلودگی خطرناک سطح پر تھی؛ اس کا سامنا ہر گھنٹے میں میری زندگی میں 20 منٹ کی کمی کررہا تھا۔ یہ ایسا تھا جیسا ہر مرد، عورت اور بچہ ہر گھنٹے میں 1.5 سگریٹ پیے۔”

برکلے ارتھ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلزبتھ ملر نے کہا کہ “یہ افسوسناک ہے کہ فضائی آلودگی اتنے افراد کو مار رہی ہے اور اب بھی وہ امریکہ اور یورپ میں بڑے ماحولیاتی اداروں کی نظروں میں نہیں ہے۔” انہوں نے کہا کہ حلوں میں اسکربرز کا بڑے پیمانے پر استعمال، بڑھتی ہوئی توانائی موثریت، اور کوئلے سے قدرتی گیس، جوہری طاقت اور قابل تجدید کی جانب منتقلی شامل ہیں۔ “ان میں سے کئی حل فضائی آلودگی کے ساتھ معاً عالمی حدت میں چین کی حصہ داری کو بھی کم کریں گے۔ ہم آج اور کل جانیں بچا سکتے ہیں۔”

برکلے ارتھ ایشیا کے مزید علاقے، امریکہ اور یورپ سمیت جغرافیائی احاطے کو بڑھانےاورتحقیق کرنے کی امید رکھتا ہے کہ کس طرح فضائی آلودگی کے عناصر وقت کے ساتھ بدلے ہیں۔

خبری اعلامیہ، سائنسی مقالے، کے ساتھ ڈاؤنلوڈ کے قابل تصاویر  یا وقت کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کی نقشہ کاری کی فلم دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://berkeleyearth.org/air-pollution-overview/۔

مزید معلومات یا انٹرویو طے کرنے کے لیے ایلزبتھ ملر سے رابطہ کیجیے: liz@berkeleyearth.org؛
510-517-9936 (1+)-