ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی کامیابی سے بازیافت ہوگئی

ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی کامیابی سے بازیافت ہوگئی

 

سیاٹل اور پورٹسمتھ ، انگلستان، 8 اگست 2015ء/ پی آرنیوزوائر– امریکی انسان دوست اور کاروباری شخصیت پال جی ایلن کی زیر قیادت ایک تحقیقی ٹیم نے جنگی جہاز ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی کامیابی سے بازیافت کرلی ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941ء میں ڈوب گیا تھا۔ ایک مرتبہ بحالی کے بعد یہ گھنٹی شمالی بحر الکاہل میں بسمارک کے ہاتھوں ڈوبنے والے اس جہاز میں ضائع ہونے والی 1،415 جانوں کی موزوں اور شایان شان یادگار ہوگی۔

گھنٹی 7 اگست کو کامیابی سے بازیافت کی گئی۔ جناب ایلن کی ٹیم نے بادبانی کشتی ایم/وائی آکٹوپس کو استعمال کرتے ہوئے اس پوری کارگزاری کی قیادت کی، یہ کشتی دور سے چلائے جانے کے قابل جدید سواری (آر اووی) سے لیس تھی۔

وزارت دفاع (ایم اوڈی) اور شاہی بحریہ ایم اوڈی کے لیے بغیر کسی خرچ کے گھنٹی بازیافت  کرنے پر جناب ایلن کی سخاوت پر شکرگزار ہے۔

ایلن نے کہا کہ “اس  سال دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کی 70 ویں سالگرہ ہے، اور یہ کوشش ان سینکڑوں بہادر فوجیوں کی جدوجہد کی یاد دلاتی ہے جنہوں نے سمندر میں اپنی جانیں گنوائیں، یہ ‘عظیم ہڈ’ میں سے گھنٹی نکالنے کی مہم کی ذمہ داری اٹھانا ان کے لیے ایک حقیقی خراج تحسین ہے۔”

گھنٹی پہلی بار جولائی 2001ء میں دریافت کی گئی تھی اور اس کی تصاویر نکالی گئی تھیں۔ یہ گھنٹی جنگی جہاز کے پیٹے کے پرزوں سے کہیں دور سمندر کی تہہ میں پائی گئی تھی۔ 2012ء میں ایلن کی زیر قیادت مہم نے گھنٹی نکالنے کی مہم کو سخت موسمی حالات اور تکنیکی دشواریوں کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دونوں کارگزاریوں کو بلو واٹر ریکوریز لمیٹڈ کی مدد حاصل تھی جو تباہ شدہ بحری جہازوں کی تلاش اور تحقیقات میں مہارت رکھتا ہے۔

گھنٹی اچھی حالت میں ہے لیکن اسے سال بھر کے ماہرانہ تحفظ اور بحالی کے عمل کی ضرورت ہے کیونکہ اس نے بہت بڑا عرصہ گہرے سمندری پانیوں میں گزارا ہے۔

بلو واٹر ریکوریز کے ڈائریکٹر ڈیوڈمیئرنس نے کہا کہ:

“میں بہت خوش ہوں کہ ہم ہڈ کے عملے کے 1،418 اراکین میں سے بچنے والے محض 3 افرا دمیں سے ایک ٹیڈبرگس کی آخری خواہشات میں سے ایک کو پورا کرنے کے قابل ہوئے جو اس گھنٹی کو اپنے بحری جہاز کے ساتھیوں کی یادگار کے طور پر دریافت کرنا چاہتے تھے۔ آبنائےڈنمارک کی زبردست گہرائیوں میں 74 سال ڈوبے رہنے کے بعد گھنٹی بہت اچھی حالت میں ہے۔ اس کی سطح پر موجود کندہ کاری سے واضح ہے کہ یہ گھنٹی جنگی جہاز ہڈ پر استعمال کے لیے محفوظ کی گئی تھے جبکہ 1891ء سے 1914ء تک یہ پہلے جنگی کشتی ہڈ پر استعمال کی گئی تھی۔ یوں یہ گھنٹی 50 سال کے عرصے کے دوران شاہی بحریہ کے دو بڑے جہازوں میں مصروف عمل رہی۔ گھنٹی پر موجود کندہ کاری لیڈی ہڈ کی خواہشات کا اندراج بھی رکھتی ہے جنہوں نے جنگ جوٹ لینڈ میں مارے گئےاپنے مرحوم شوہر ریئرایڈمرل سر ہوریس ہڈ کے سی بی ڈیایساو ایم ویاو کی یاد میں اس کشتی کا آغاز کیا تھا۔ ہماری بازیافت کردہ گھنٹی ایک تاریخی چیز ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ برطانوی بیٹل کروزر اسکواڈرن کے پرچم بردار کی حیثیت سے ہڈ کتنا اہم ہے۔ یہ ایک خاص جہاز کے لیے خاص گھنٹی تھی اور یہ ہمیشہ عظیم ہڈ اور اس کے عملے کی خدمات اور قربانیوںکی ایک شایان شان یادگار رہے گی۔”

کامیاب بازیافت پر فرسٹ سی لارڈ ایڈمرل سر جارج زیمبیلاس نے تبصرہ کیا کہ:

“جنگ ہائے عظیم کے عہد میں شاہی بحریہ کے طاقت کی ایک شاندار علامت کی حیثیت سے ‘عظیم ہڈ’ ہماری قوم کی طویل اور عظیم الشان بحری تاریخ کے بہترین لڑاکا بحری جہازوں میں سے ایک تھا۔ برطانوی کے لیے بہت اہم سمجھے جانے والے خط زندگی کے دفاع کے دوران اس جہاز کا اپنی توپوں کے ساتھ کھو جانا اس بہت بڑی قیمت کی افسوسناک یاددہانی جو ہم نے اپنے بچاؤ کے لیے ادا کی، اور اپنی اس آزادی اور ترقی کے لیے جس کا لطف ہم آج اٹھا رہے ہیں۔ اس بحری جہاز کی داستان، اس کی قربانی، آج بھی شاہی بحریہ کو متاثر کررہی ہے۔ جہاز کی گھنٹی کی بازیافت اس امر کو یقینی بنانے میں مدد دے گی کہ اپنی جانیں گنوانے والے 1،415 افراد اور ہڈ کے نام کو ایک احسان مند قوم کی جانب سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”

ایچ ایم ایس ہڈ شاہی بحریہ کا سب سے بڑا جہاز تھا جو ڈوبا، جو کسی بھی برطانوی جنگی جہاز کے سب سے بڑے جانی نقصان کا سبب بنا اور اس کی بحالی کو ایچ ایم ایس ہڈ ایسوسیایشن کی مکمل حمایت حاصل رہی جس کے اراکین میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے 1941ء میں آخری مشن سے قبل جہاز کے لیے خدمات انجام دیں اور ان افراد کے رشتہ دار بھی جو اس کے ساتھ کھو گئے۔

ایسوسیایشن کے صدر ریئرایڈمرلفلپولکوکس ہیں جن کے چچا نے ایچ ایم ایس ہڈ کے ساتھ اپنی جان گنوائی تھی۔ ایڈمرلولکوکس نے کہا کہ:

“ایچ ایم ایس ہڈ ایسوسیایشنآبنائےڈنمارک کی اتھاہ گہرائیوں سے ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی کی بازیافت کے لیے پال ایلن، ڈیوڈمیئرنساور ایم/وائی آکٹوپس کی شاندار کوششوں اور پیشہ ورانہ صلاحیت پر انتہائی شکر گزار ہے۔ ابلخصوص پال ایلن کی حمایت نمایاں رہی اور ہم بحالی کے عمل سے ان کی ذاتی وابستگی کو سراہتے ہیں۔”

“سمندر میں اپنی جانیں گنوانے والوں کے لیے پھولوں کے درمیان کوئی سنگ مزار نہیں۔ 24 مئی 1941ء کو ایچ ایم ایس ہڈ میں اپنی جانیں  دینے والے 1،415 افسران اور افراد کے لیے ان کی گھنٹی کی بازیافت اور آخر میں پورٹسمتھ میں شاہی بحریہ کے قومی عجائب گھر میں یادگار کی حیثیت سے تنصیب کا مطلب ہوگا کہ آنے والی نسلیں آس گھنٹی کو دیکھیں گی اور احسان مندی کے ساتھ انہیں یاد کریں گی اور ملک کے لیے خدمات انجام دینے والے افراد کو ان کی شجاعت، بہادری اور ذاتی قربانی کی وجہ سے شکرگزارہوں گی۔”

بحالی کا عمل مکمل ہونے کے بعد اسے شاہی بحریہ کے قومی عجائب گھر (این ایم آر این) میں عوامی مظاہرے کے لیے نصب کیا جائے گا اور 20 ویں اور 21 ویں صدی سے وابستہ نئی نمائش کی اہم خصوصیت ہوگی، جو 2014ء میں پورٹس متھ کی تاریخی گودی میں شاہی بحری کے قومی عجائب گھر میں کھولی گئی۔ یہ بہترین مقام ہے کیونکہ ایچ ایم ایس ہڈ پورٹس متھ ہی میں قیام رکھتا تھا۔”

گھنٹی کی کامیاب بازیافت پر تبصرہ کرتے ہوئےاین ایم آر این کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈومینکٹویڈل نے کہا کہ :

“ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی کو نمائش کے لیے لگانا ایک اعزاز اور امتیاز ہے۔ ہماری نئی راہداریاں 20 ویں اور 21 ویں صدی میں شاہی بحریہ کے افراد کی شجاعت، فرض کی ادائیگی اور قربانی کا تذکرہ اور ان کی یاد دلاتی ہیں۔ ایچ ایم ایس ہڈ کی گھنٹی اس داستان کا پوری طرح احاطہ کرتی ہے جو کوئی اور چیز نہیں کرسکتی۔ ہم پہلے ہی ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز کی گھنٹی رکھتے ہیں جس نے 24 مئی 1941ء کو ایچ ایم ایس ہڈ کے ساتھ مل کر بسمارک کا مقابلہ کیا تھا، اور اب ان دو جہازوں کا کم از کم روح کی صورت میں یکجا ہونا شاندار ہوگا۔”

ایچ ایم ایس ہڈ کے ملبے کو عسکری باقیات کی حفاظت کے قانون 1986ء کے تحت مخصوص قرار دیا گیا تھا۔ یادگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بحالی نے کسی بھی غیر قانونی عمل کے ذریعے اس گھنٹی پر قبضہ کرکے ذاتی فائدہ اٹھانے کا خدشہ بھی ختم کردیا ہے۔

مزید معلومات کے لیے رائل نیوی پریس افسر سے 44-7748932702پر رابطہ کریں۔

پال جی ایلن کے بارے میں
پال جی ایلن ایک معروف سرمایہ کار، کاروباری منتظم اور انسان دوست شخصیت ہیں جو اپنی زندگی میں مختلف خیراتی مقاصد کے لیے 2 ارب ڈالرز سے زیادہ دے چکے ہیں۔ انہوں نے 1986ء میں جوڈی ایلن کے ساتھ ولکانانکارپوریٹڈ قائم کی تاکہ اپنے کاروبار اور انسان دوست سرگرمیوں کی نگرانی کرسکیں۔ وہ پال جی ایلن فیملی فاؤنڈیشن کے بھی شریک بانی ہیں۔ آج ولکانانکارپوریٹڈدنیا بھر میں ایلن کی سرمایہ کاریوں اور منصوبوں کی وسیع اقسام کی نگرانتی کرتی ہے۔ 2003ء میں انہوں نے صحت اور امراض میں انسانی دماغ کی تفہیم کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ایلن انسٹیٹیوٹ آف برینسائنسز تخلیق کی، اور ایک دہائی بعد مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشلانٹیلی جنس) کے شعبے میں ترقی کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایلن انسٹیٹیوٹ آف آرٹیفیشلانٹیلی جنس کی توسیع کا آغاز کیا۔ 2014ء میں ایلن انسٹیٹیوٹ فار سیل سائنسز کے قیام کے لیے 100 ملین ڈالرز عطیہ کیے اور ایبولا کو روکنے کے لیے مزید 100 ملین ڈالرز کا عہد کیا۔ جناب ایلنمائیکروسافٹ کے شریک بانی اور سیاٹل سی ہاکس اور پورٹ لینڈٹریلبلیزرز کے مالک بھی ہیں۔ مزید معلومات کے لیےwww.paulallen.com یا www.vulcan.comپر جائیں۔

 ذرائع ابلاغ کے سوالات کے لیے:

hoodbell@vulcan.com یا +1-206-342-2526