نو کنٹری: ہم عصر آرٹ برائے جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کا 22 فروری سے گوگن ہائیم میں آغاز

Continue reading " />

Home » General »

نو کنٹری: ہم عصر آرٹ برائے جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کا 22 فروری سے گوگن ہائیم میں آغاز

 

نیو یارک میں گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی عالمی  آرٹ منصوبے کی ابتدائی نمائش میں بنگلہ دیش، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ اور ویت نام کے مصوروں کے فن پارے پیش

نیو یارک، 21 فروری 2013ء/پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان ۔۔

22 فروری سے 22 مئی 2013ء تک نیویارک میں گوگن ہائیم میوزیم پیش کرتا ہے نوکنٹری: ہم عصر آرٹ برائے جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا، جو گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی عالمی آرٹ منصوبے کی ابتدائی نمائش ہے، جس میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کی اس وقت کی سب سے نمایاں اور جدید آوازوں کی نمائندگی کرنے والے 22 مصوروں کا کام پیش کیا جائے گا۔ تخلیقی مشقوں میں خطے کی بدلتی ہوئی روایات پر توجہ رکھتے ہوئے نیو یارک میں مصوری، مورت، فوٹوگرافی، وڈیو، انسٹالیشن اور کاغذ پر کام پیش کیا جا رہا ہے، جس میں سے بیشتر کام امریکہ میں پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تمام کام گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی پرچیز فنڈ کی زیر سرپرستی گوگن ہائیم کی کلیکشن کے لیے حال ہی میں حاصل کیا گیا ہے ۔ نیو یارک میں اپنی پیش کاری کے بعد نو کنٹری  اکتوبر 2013ء سے فروری 2014ء تک ایشیا سوسائٹی ہانگ کانگ سینٹر کا سفر کرے گی۔ نمائش ممکنہ طور پر سنگاپور کا دورہ بھی کرے گی۔

(تصویر: http://photos.prnewswire.com/prnh/20130221/DC60944 )

نو کنٹری: ہم عصر آرٹ برائے جنوبی و جنوب مشرقی ایشیا کی نگرانی گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی کی کیوریٹر جون یاپ کریں گی، جنہیں نمائش کے انتظامات کے لیے نیو یارک میں دو سالہ قیام کے لیے گوگن ہائیم کی جانب سے مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں ہیلن سو، اسسٹنٹ کیوریٹر، گوگن ہائیم میوزیم کی مدد اور گوگن ہائیم میوزیم سام سنگ سینئر کیوریٹر، ایشین آرٹ الیگزینڈرا مونرو کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ نینسی اسپیکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور جینیفر اور ڈیوڈ اسٹاک مین چیف کیوریٹر، گوگن ہائیم فاؤنڈیشن، نیو یارک اور جوان ینگ، ڈائریکٹر کیوریٹوریل افیئرز، گوگن ہائیم میوزیم، کئی سالوں پر محیط اس منصوبے کو کیوریٹوریل نگرانی فراہم  کریں گے۔

نمائش کا خلاصہ

نمائش گوگن ہائیم کے عالمی مکالمے  کو توسیع دیتی ہے اور ان متحرک برادریوں میں آرٹ کے اجارے میں بڑی حد تک اضافہ کرتی ہے۔ نمائش کا عنوان، نو کنٹری، ڈبلیو بی یٹس کی نظم “سیلنگ ٹو بازنٹیم” (1928ء) کی اولین سطر سے لیا گیا ہے، جسے بعد ازاں کورمک میک کرتھی نے اپنے ناول نو کنٹری فار اولڈمین (2005ء) کے لیے منتخب کیا تھا اور یوں سرحدوں سے ماوراء کلچر کا خیال پیدا ہوا۔ نمائش جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں مختلف عہد کے مصوروں کے کاموں اور خطے میں تاریخی طور پر بدلتی سرحدوں کے تناظر میں ہم عصر مصورانہ مشقوں کے تنوع کی تحقیق کرتی ہے ۔

کیوریٹر یاپ کا کہنا ہے: “نو کنٹری تعلقات کے نیٹ ورک پر ایک نئی نظر ڈالتی ہے – “مقامات، افراد، روایات، خیالات اور زبانوں کے درمیان – جو آپس میں منسلک لیکن متنوع ممالک کا تعین کرتی ہیں۔ جو ان کے ثقافتی معمولات کی سوجھ بوجھ تجویز کرتی ہے اور  طبعی و سیاسی سرحدوں سے ماورا ہے، اور اثرورسوخ کا ایک پیچیدہ نمونہ ظاہر کر رہی ہے۔ مختلف مقامی و بین الاقوامی حاضرین کے ساتھ مشغولیت کے لیے پروگرامز کے ساتھ نو کنٹری نمائش سے کہیں آگے کی چیز ہے؛ یہ گفتگو اور تبادلے کے لیےایک پلیٹ فارم ہے؛ اور باہمی اتفاق رائے کے لیے رکاوٹوں کو توڑنے والا مقام ہے۔”

مصور

اس نمائش کے مصوروں میں شامل ہیں: امر کنور (پیدائش 1964ء، نئی دہلی، بھارت)، آریہ راس جرمریئرنسوک (پیدائش 1957ء، تراڈ، تھائی لینڈ)، ارین دویہرتانتو سوناریو (پیدائش 1978ء، بانڈونگ، انڈونیشیا)، اونگ مینت (پیدائش 1946ء، ینگون، میانمر)، بنی عابدی (پیدائش 1971ء، کراچی، پاکستان)،، ہو زو نین (پیدائش 1976ء، سنگاپور)، خادم علی (پیدائش 1978ء، کوئٹہ، پاکستان)، نوین راون چیکل (پیدائش 1971ء، چیانگ مائی، تھائی لینڈ)، نوربرٹو رولڈان (پیدائش 1953ء، روکسس سٹی، فلپائن)، پوکلونگ ایناڈنگ (پیدائش 1975ء، منیلا، فلپائ)، رضا افیسینا (پیدائش 1977ء، بانڈونگ، انڈونیشیا)، شلپا گپتا (پیدائش 1976ء، ممبئی، بھارت)، تانگ دا وو (پیدائش 1943ء، سنگاپور)، طیبہ بیگم لپی (پیدائش 1969ء، گائے بندھا، بنگلہ دیش)، دی اوٹولتھ گروپ (قیام 2002ء، لندن، برطانیہ)، دی پروپیلر گروپ (قیام 2006ء ہو چی منہ سٹی، ویت نام اور لاس اینجلس، کیلیفورنیا)، تران لونگ (پیدائش 1960ء، ہنوئی، ویت نام)، ترونگ تان (پیدائش 1963ء، ہنوئی، ویت نام)، توان اینڈریو این گوین (پیدائش 1976ء، سائیگون، ویت نام)، ونسنٹ لیونگ (پیدائش 1979ء، کوالالمپور، ملائیشیا)، تن ون آنگ (پیدائش 1975ء، یالوت، میانمر)، واہ نو (پیدائش 1977ء، ینگون، میانمر)، اور وونگ ہوئے چیونگ (پیدائش 1960ء، جارج ٹاؤن، ملائیشیا)۔

گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی پرچیز فنڈ پرمننٹ کلیکشن ایڈیشنز

نیو یارک اور نمائشی دورے میں پیش کردہ کاموں کے علاوہ گوگن ہائیم کامن لرچائی پراسرت (پیدائش 1964ء، لوپ بوری، تھائی لینڈ)، سمرین گل (پیدائش 1959ء، سنگاپور)، سوپ ہیپ پچ (پیدائش 1971ء، بٹامبانگ، کمبوڈیا اور وینڈی رتانا (پیدائش 1980ء، نوم پنہ، کمبوڈیا کے فن پارے حاصل کرنے کے لیے بھی کام کر رہا ہے، جو گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی پرچیز فنڈ کے ذریعے گوگن ہائیم کی کلیکشن کا حصہ بن جائیں گے۔

مکالمے میں اضافہ، حقیقی و آن لائن

مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم عصر آرٹ اور ثقافتی مشقوں کے بارے میں مکالمے کی حوصلہ افزائی کے مشن کے ایک حصے کے طور پر گوگن ہائیم مذاکروں اور تبصروں کی ایک جامع سیریز پیش کر رہا ہے، جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا اور نیو یارک شہر میں شریک مقامات پر قابل رسائی ہوگی اور منصوبے کی ویب سائٹ پر آن لائن بھی۔ آن لائن پلیٹ فارم میں کیوریٹرز، مصوری کے مورخین، مصوروں اور علاقائی ماہرین کے تحریری متن، آڈیو اور وڈیوز شامل ہیں۔ ایم اے پی کے تعلیمی بروشر میں فلم اسکریننگز، مصوروں کی گفتگو، فیملی ورکشاپس اور بہت کچھ ملاحظہ کیجیے۔ دیکھیں guggenheim.org/MAP۔

گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی عالمی آرٹ منصوبے کے بارے میں

نو کنٹری: ہم عصر آرٹ برائے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی عالمی آرٹ منصوبے کے نمائش کے حصے کا آغاز کرتی ہے: یہ ایک کئی سالوں کا تعاون ہے جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، لاطینی امریکہ، اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ میں ہم عصر آرٹ اور تخلیقی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دیتا ہے۔ گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی کیوریٹوریل رہائشوں، بین الاقوامی سفری نمائشوں، حاضرین کے لیے تعلیمی پروگرامنگ اور گوگن ہائیم کی مستقل کلیکشن کے لیے فن پاروں کے حصول کا احاطہ کرتا ہے۔ منصوبہ عجائب گھروں میں اور مصوروں، دانشوروں، عجائب گھر جانے والوں اور آن لائن برادریوں کے درمیان علاقائی و عالمی دونوں سطحوں پر مکالمے اور تخلیقی تعاون میں اضافے کی خواہش رکھتاہے۔

ویب سائٹ: guggenheim.org/MAP

گوگن ہائیم یو بی ایس ایم اے پی عالمی آرٹ منصوبے کے بارے میں اپڈیٹس کے لیے ٹوئٹر پر #GuggUBSMAP کو فالو کیجیے۔ پریس ریلیز کے لیے guggenheim.org/pressreleases پر جائیے۔

زریعہ: سلیمان ر۔ گوگن ہائیم میوزیم

 

 
 
 

0 Comments

You can be the first one to leave a comment.

 
 

Leave a Comment

 

You must be logged in to post a comment.