جدید شراکت داری بایر کے طویل العمل و قابل منسوخ مانع حمل امپلانٹس کے اخراجات کو 50 فیصد سے زائد تک کم کرتی ہے

جدید شراکت داری بایر کے طویل العمل و قابل منسوخ مانع حمل امپلانٹس کے اخراجات کو 50 فیصد سے زائد تک کم کرتی ہے

 

-منصوبہ کم آمدنی کے حامل ممالک کی 27 ملین خواتین تک مانع حمل ادویات کی رسائی میں اضافہ کرے گا

ليفركوزن، جرمنی، 25 فروری 2013ء /پی آرنیوزوائر/ ایشیانیٹ پاکستان–

سرکاری و نجی شعبے کے شراکت داروں کے ایک غیر معمولی گروپ نے ایک معاہدے کو حتمی شکل دی ہے جو ایک موثر، طویل العمل، قابل منسوخ مانع حمل امپلانٹ جاڈیل (ر) کو اگلے چھ سالوں میں دنیا کے غریب ترین ممالک کی 27 ملین سے زائد خواتین کے لیے دستیاب کرے گا اور وہ بھی قیمت میں 50 فیصد سے زائد کمی کے ساتھ۔

جاڈیل ایکسس پروگرام – جسے بایر ہیلتھ کیئر اے جی، بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، کلنٹن ہیلتھ ایکسس انیشی ایٹو (CHAI)، ناروے، برطانیہ، امریکہ اور سویڈن کی حکومتوں، اور چلڈرن انوسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن (CIFF) اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) نے شراکت داری کے ذریعے بنایا اور سپورٹ کیا ہے – خاندانی منصوبہ بندی پر جولائی 2012ء کے لندن اجلاس سے ملنے والی تحریک پر آگے بڑھا ہے، جہاں عالمی رہنماؤں نے 2020ء تک ترقی پذیر ممالک میں مزید 120 ملین خواتین کو مانع حمل ادویات کی فراہمی کا عہد کیا تھا۔ یہ  زندگی بچانے والی معیاری اشیا کی موزوں قیمت اور مقدار میں دستیابی کو بڑھانے کے لیے عالمی مارکیٹ کی صورت گری میں مدد کے ذریعے اقوام متحدہ کے کمیشن برائے جان بچاؤ اسباب کی تجاویز کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

دستخط شدہ معاہدے کے تحت بایر اپنی مانع حمل امپلانٹ، جاڈیل (ر)، کی موجودہ قیمت کو 18 امریکی ڈالرز سے گھٹا کر 8.50 امریکی ڈالرز کر رہا ہے ، جو یکم جنوری 2013ء سے دنیا بھر کے 50 سے زائد ممالک میں مؤثر ہے، جن میں وہ ممالک بھی شامل ہیں جن کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا سمجھنا ہے کہ ان کے لیے2015ء تک ماں و بچے کی صحت کے حوالے سے ہزاریہ ترقیاتی اہداف (MDGs) کو حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ ڈیوائس، جو ستمبر 2009ءمیں عالمی ادارۂ صحت(ڈبلیوایچ او)کی جانب سےسند یافتہ ہے، پانچ سالوں تک عورتوں کو موثر منع حمل فراہم کرتی ہے۔

بایر ہیلتھ کیئر اےجی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر یورگ رائنہارڈٹ نے کہا کہ “ہماری کمرشل کامیابی کی کلید جدت اورساتھ ساتھ سماجی وابستگی کی بنیادیں ہیں۔ ہم آمدنی اور رہائش کے مقام سے قطع نظر ہو کر زندگی کو بہتر بنانے والی اپنی مصنوعات کو ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ افراد کے لیے قابل رسائی بنانے پر خوش ہیں، یوں یہ ترقی پذیر ممالک میں عورتوں اور بچوں کی صحت کو بہتر بنانے میں ایک بہت اہم حصہ داری ہے۔”

مکمل نفاذ کے بعد جاڈیل ایکسس پروگرام 2013ء سے 2018ءکے دوران 28 ملین غیر ارادی حمل ٹھہرنے کے واقعات کو روکے گا،اور یوں نومولودوں کی تقریباً 2 لاکھ 80 ہزار اور ماؤں کی 30 ہزار اموات کو روکے گا۔ مجموعی طور پر یہ منصوبہ عالمی صحت پر اخراجات  میں تقریباً 250 ملین ڈالر  کی بچے کرے گا۔

آج ترقی پذیر ممالک میں 200 ملین سے زائد خواتین جو حمل نہیں چاہتیں، جدید مانع حمل طریقوں تک رسائی نہیں رکھتیں۔تحقیقات نے  ظاہر کیا کہ ترقی پذیر ممالک میں وہ 600 ملین خواتین جو خاندانی منصوبہ بندی کےجدید طریقے استعمال کر رہی ہیں، میں سے صرف1سے 2 فیصد امپلانٹس استعمال کرتی ہیں، لیکن اگر امپلانٹس مستقل دستیاب ہوں اور ساتھ میں مشاورت اور طبی خدمات فراہم کی جائیں توان کی ایک بڑی تعداد امپلانٹس کا انتخاب کر سکتی ہے۔ کئی پروگراموں میں جہاں آج امپلانٹس پیش کیے گئے، وہ بہت تیزی سے پسندیدہ طریقہ بن گئے ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی پر لندن اجلاس میں مؤثر سرکاری-نجی تعاون کے فوری مطالبے کا جواب دیتے ہوئے شراکت داروں نے اس کم استعمال ہونےوالے طریقے کی قیمت میں کمی اور اسے دنیا بھر میں عورتوں کے لیے قابل رسائی بنانے اور بالآخر مانع حمل طریقوں کے آپشنز کو بڑھانے میں مدد دینےپر گفت و شنید کی۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی شریک-چیئر میلنڈا گیٹس نے کہا کہ “جولائی 2012ء میں عالمی رہنماؤں نے دنیا بھر میں خواتین کو مانع حمل طریقوں کے مزید آپشنز تک بہتر انداز میں رسائی دینے کا عہد کیا، اور آج ہم اس عہد کی تکمیل کی جانب ایک قدم مزید آگے آ گئےہیں۔ہمیں امید ہے کہ یہ کئی جدید شراکت داریوں میں سے پہلا قدم ہوگا جو عورتوں اور لڑکیوں کو اپنی ذات اور اہل خانہ کے لیے ایک بہترزندگی تخلیق کرنے کی قوت دینے میں مدد دیں گی۔”

تمام اہل ممالک میں استعمال کے لیے بایر کی جاڈیل (ر) اپنی تمام اشیاء کے ساتھ8.50 امریکی ڈالرز فی یونٹ کی قیمت میں دستیاب ہوگی۔ بڑی ایجنسیاں جیسا کہ یو این ایف پی اے اور امریکی ادارہ بین الاقوامی ترقیات (یو ایس ایڈ)، اور غیر ریاستی فراہم کنندگان اپنے ملکی دفاتر اور حکومتی شراکت داروں کے لیے قیمت میں کمی کے لیے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ نئی قیمت کو ملک کے مانع حمل طریقوں کی فراہمی کے منصوبوں میں نمایاں کیا جا سکے۔ جاڈیل کے فراہمی کے طریقے اور نقل و حمل کے  چکر بدستور غیر تبدیل شدہ رہیں گے۔

ملک کے اندر حکومتی ایجنسیوں اور سول سوسائٹی آرگنائزیشنز کی جانب سے چلائے جانے والے رضاکارانہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرامز، جنہیں یو ایس ایڈ، یو این ایف پی اے، نارویجین ایجنسی برائے ترقیاتی تعاون (NORAD) اور برطانوی محکمہ بین الاقوامی ترقیات (DFID) کی سپورٹ حاصل ہے، طویل العمل، قابل منسوخ مانع حمل طریقوں کی عورتوں اور جوڑوں کو فراہمی کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی کے زیادہ آپشنز دے کر ان کی اضافی رسائی میں مدد دیں گے۔

بایر ہیلتھ کیئر اے جی خدمات کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے اور عورتوں کو محفوظ و معیاری رسائی کو یقینی بنانے کے لیے عملے کی تربیت، تاکہ خواتین موزوں ادخال اور اخراج کی خدمات اور ساتھ ساتھ مشورے بھی حاصل کر سکیں، پر بھی شراکت دار گروپوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

مزید برآں ایک منصوبہ بھی جاری ہے جو خاندانی منصوبہ بندی کی سول سوسائٹی انجمنوں کو تقسیم کے جدیدطریقوں، جیسا کہ سوشل فرنچائزنگ اور موبائل کلینک میں مدد دے گا۔ یہ کام ممکنہ طور پر 2013ء میں طریقے کے انتخاب میں اضافے کے لیے ان امپلانٹس کو پیش کرنے والی انجمنوں کی موجودہ صلاحیت کو دوگنا کرے گا، جبکہ آنے والے سالوں میں مستقل وسعت رہے گی۔

 
 
 

0 Comments

You can be the first one to leave a comment.

 
 

Leave a Comment

 

You must be logged in to post a comment.